62

“کِسوہ” کے لیے ریشم اور سونے کے پانی والے دھاگے کہاں سے آتے ہیں ؟

سعودی عرب میں غلافِ کعبہ “کِسوہ” تیار کرنے والے کارخانے کے جنرل مینجر محمد باجودہ کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کارخانے کی تمام مشینوں کو آئندہ برس نئی مشینوں سے تبدیل کر دینے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ سعودی فرماںروا نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسوہ کی تیاری کے لیے کاری گروں اور ہنر مندوں کی دوسری کھیپ فراہم کی جائے جو موجودہ کاری گروں کے سبک دوش ہونے کے بعد ان کی جگہ لے سکے ۔ اس وقت کسوہ تیار کرنے والے کارخانے میں کام کرنے والے درجنوں سعودی کاری گروں میں سے اکثریت کی عمر 40 سے 60 برس کے درمیان ہے۔ یہ لوگ انتہائی تندہی کے ساتھ کسوہ کو سونے اور چاندی کے دھاگوں کی کڑھائی سے تحریر کی گئی آیاتِ قرآنی سے مزین کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔
ہر سال نو ذوالحجہ کو وقوف عرفہ کے دن خانہ کعبہ کو ریشم سے تیار کردہ نئے غلاف سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔ کسوہ کی تیاری کے لیے 200 کے قریب افراد تقریبا نو ماہ تک غلاف کعبہ کے لیے مختص کارخانے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ ان تمام افراد کا تعلق سعودی عرب سے ہوتا ہے ۔ سال 1962 تک کسوہ مصر میں تیار کیا جاتا رہا۔ اُس کے بعد سے اب تک کسوہ سعودی عرب میں ہی تیار کیا جاتا ہے۔ کسوہ تیار کرنے والا موجودہ کارخانہ 1977 میں مکہ مکرمہ میں قائم کیا گیا ۔ کسوہ کی تیاری متعدد مرحلوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس دوران تقریبا 670 کلوگرام خالص ریشم کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ ریشم خصوصی طور پر اطالیہ سے درآمد کیا جاتا ہے جب کہ سونے اور چاندی کا پانی چڑھے دھاگے جرمنی سے منگوائے جاتے ہیں ۔
یاد رہے کہ آئندہ جمعرات کے روز تبدیل کیے جانے والے کسوہ پر اس سال آنے والی لاگت 2 سے 2.5 کروڑ ریال (53.3 لاکھ سے 66.7 لاکھ ڈالر) کے درمیان ہے ۔ حج کا سیزن مکمل ہونے کے بعد پرانے کسوہ کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر انہیں اہم شخصیات اور مذہبی تنظیموں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ۔
(یہ تحریر العریبیہ ڈاٹ نیٹ سے لی گئی )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں