51

“کفایت شعاری، صبر اور پرہیزگاری”

کسی عرب ملک کے پوش علاقے کی مسجد کے خطیب صاحب نے منبر پر چڑھ کر “کفایت شعاری، صبر اور پرہیزگاری” پر تقریر شروع ہی کی تھی کہ ایک خاکروب نے کھڑے ہو خطیب کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
حضور والا: آپ ایک پر تعیش کار میں بیٹھ کر مسجد میں تشریف لائے ہیں۔ آپ نے نفیس ترین کپڑے کا لباس زیب تن کیا ہوا ہے، آپ کے لگائے ہوئے قیمتی عطر سے پوری مسجد مہک رہی ہے۔ آپ کے ہاتھ میں چار چار انگوٹھیاں نظر آ رہی ہیں اور شاید آپ کی ایک انگوٹھی کی قیمت میری تینخواہ سے بھی زیادہ ہوگی۔ آپ نے آئی فون کا آخری ماڈل اٹھا رکھا ہے۔ آپ ہر سال اپنے زہد و تقوی میں اضافہ کیلیئے حج اور عمرے پر تشریف لیجاتے ہیں۔
جناب والا: کسی روز ٹین کی چھت سے بنے میرے گھر پر تشریف لائیے، اور ایک رات کیلیئے ایئر کنڈیشن کے بغیر سو کر دیکھیئے، اور دیکھیئے کہ کیسے صبح سویرے فجر سے پہلے جاگ کر، شدت کی اس گرمی میں سڑک پر جھاڑو دینے کیلیئے ایسی حالت میں جانا پڑتا ہے کہ آپ نے روزہ بھی رکھا ہوا ہو۔ تب جا کر آپ کو پتہ چلے گا کہ صبر کے اصلی کیا معنی ہیں۔
میں یہ والا کام پورا مہینہ کرتا ہوں تب کہیں جا کر اتنی سی تنخواہ ملتی ہے جس سے آپ کا لگایا ہوا یہ عطر بھی شاید ہی مل پائے۔
محترم شیخ صاحب: ناراضگی معاف: ہمیں صبر اور شکر کے معنی جاننے کی بالکل ضرورت نہیں کہ یہ تو ہمارا اور ہمارے گھر کا پرانا ساتھی ہے۔
ہمیں تو آپ علماء کے دکھاوے اور اور امیروں کے ظلم کے بارے میں بتائیے۔
ہمیں تو دولت کی غیر مساویانہ تقسیم سے سماج میں پل رہی بے روزگاری کے عفریت کے بارے میں بتائیے جو ٹائم بم کی طرح پھٹنے کو تیار ہو رہا ہے۔
ہمیں تو مظلوموں کو کیسے انصاف ملے اور بھوکوں کے بارے میں بنتی کسی پالیسی سے آگاہ کیجیئے۔
ہمیں عوامی دولت کو ہڑپ کرنے والے بدعنوان حکمرانوں اور ان سے عوام کو اپنا مال واپس کیسے ملے گا کے بارے میں بتائیے۔
ہمیں تو دولت کی تقسیم مساویانہ ہوجائے، حقداروں کو حق پہنچ جائے، اور انصاف کیسے سب کیلیئے ملنا آسان ہو کے بارے میں بتائیے۔
ہمیں مناصب کی بندر بانٹ اور اقرباء پروری کے بارے میں کچھ بتائیے۔
ہمیں یہ بتائیے کہ حق داروں کو حق کب اور بکیسے مل پائے گا۔
اگر آپ یہ سب کچھ نہیں بتا سکتے تو ہمیں آپ کے خطاب کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ کا تو اپنا تال میل آپ سے گفتگو سے نہیں مل رہا۔
((( ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ؟ ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں ))) سورة الكهف 103-104

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں