79

پسرور میں مزارات!

پنجاب کے بعض دوسرے شہروں اور قصبوں کی طرح پسرور شہر میں بھی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں۔ بڑے بڑے اولیا اکرام یہاں آسودہ خاک ہیں!
امام میراں برخودار
یہ مزار بہت قدیم ہے امام صاحب کی لحد کے پاس ہی ایک اور لمبی سی قبر ہے جسے نوگزا کہا جاتا ہے۔ مزار کے اوپر ایک بڑا سا گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ خیال یہی ہے کہ سیالکوٹ کے امام صاحب کی طرح اس مزار کی گنبد نما عمارت بھی گجرات کے شاہ دولہ نے تعمیر کی ہو گی ان کے مزار کے پاس چند قبریں اور بھی موجود ہیں ان کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات نہیں مل سکی۔

سید جلال شاہ بخاری
آپ کا مزار شیر کے مشرقی جانب محلہ دوبرجی میں واقع ہے مزار کے قریب ہی ایک مسجد ہے یہاں کوئی عرس نہیں ہوتا۔
(3) شاہ ببن!
شاہ ابن کے نام سے بھی مشہور تھے انکا مزار شہر سے ریلوے اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے بائیں جانب ایک قبرستان میں واقع ہے مزار پختہ ہے۔ چار دیواری بھی موجود ہے یہاں بھی کوئی عرس نہیں ہوتا۔

شاہ دریا دیوان
شہر پسرور کے مشرقی جانب مائی تابی کے قبرستان میں پختہ مزار ہے جہاں ہر جمعرات کو چراغاں کیا جاتا تھا (اب کا پتہ نہیں) شوق مرحوم کے نانا اللہ دتہ نے پختہ مزار تعمیر کیا تھا۔ یہاں ہر سال 15 ساون کو میلہ لگا کرتا تھا۔

پیر سہریاں والا پنج تنی
ہشت پہلو جسے پکا تالاب بھی کہا جاتا ہے کہ مغربی جانب چھوٹی اینٹ کا مزار ہے روایت ہئ کہ آپ امام میراں برخوردار کے ساتھیوں میں سے ہیں یہاں اب سارا دن بھنگ ہی گھوٹی جاتی ہے میرے خیال میں یہاں میلہ بھی لگایا جاتا ہے مجھے اس کی تاریخ معلوم نہیں۔

پیر مادے شاہ
میاں ابراہیم کاکا کی کوٹھی کے احاطے میں ایک کچی قبر ہے جس کے حالات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے کہا جاتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہ چھوٹی اینٹ کی پختہ قبر تھی۔

پیر جہانیاں
شہر کے مغربی قبرستان میں ہشت پہلو تالاب جسے پکا تالاب بھی کہا جاتا ہے کے قریب واقع ہے لاری اڈا سے جو سڑک سبزی منڈی کی طرف جاتی اس راستے میں آتا ہے یہاں پیر جہانیاں نام کے ایک بزرگ کا مزار ہے اور انہی کے نام سے قبرستان کو بھی پیر جہانیاں قبرستان کہا جاتا ہے اس مزار کے سرہانے کی جانب مشہور فارسی شاعر دلشاد پسروری کی بھی قبر ہے۔

پیر نامی شاہ ) نامے شاہ)
نامی شاہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں حیات تھے وفات انگریزی دور عہد میں ہوئی شہر کے مشرق میں سرکلر روڈ کے کنارے ان کا مزار ہے یوں تو یہ محلہ دہو سیالی میں واقع ہے مگر ان کے نام کی وجہ سے علاقہ بھر میں اسے محلہ نامی شاہ بھی کہا جاتا ہے۔

شاہ ناگا ولی
موری دروازہ کت باہر ایک غیر معروف مزار ہے جسے ناگا ولی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے حالات زندگی ابھی تک عیاں نہیں ہیں۔

محبت شاہ ولی
قبرستان کھوکھراں میں انکا مزار ہے روایت ہے کہ آپ بھی امام میراں برخودار کے ساتھویں میں سے تھے کفار سے جنگ کرتے ہوئے اسی جگہ شہید ہے تھے۔

پیر جھولا
پولیس چوکی (تھانہ سٹی ) کے عقب مٰں مسجد گھاڑھواں کے قریب ایک مزار ہے یہاں آرام کرنے والے بزرگ کا نام کیا ہے کچھ معلوم نہیں ہو سکا ویسے یہ پیر جھولا کے نام سے مشہور ہیں ۔

بازار کلاں سے ککے زئی دروازہ کی جانب جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر ایک بزرگ کا مزار ہے جن کا نام 1892 عیسوی
کے بندوبست مٰن شاہ بدر ہے اس مزار کو کئی ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

۔ محلہ ککے زئی میں چاہ دین محمد کے قریب ایک مزار ہے جسکی تفصیلات ابھی صیغہ راز میں ہیں

جھنگی شاہ
کچے تالاب کے شمال میں ایک جھنڈ میں ایک مزار ہے ان کے زندگی کے حالات ابھی صیغہ راز میں ہیں یہ جھنگی شاہ کے نام سے مشہور ہیں اب یہاں بہت آبادی بڑھ گئی ہے جیسے دربار کے نام کی نسبت سے پیر جھنگی شاہ ہی کہاجاتا ہے اس دربار کی جانب جانے کے لئے سیالکوٹ بائی پاس سے نارووال کی جانب جاتے ہوئے خانم میریج ہال کے بلکل سامنے ہی ایک گلی سیدھی جاتی ہے اس میں مزکورہ دربار ہے یہ سارا محلہ پیر جھنگی کے نام سے ہی جانا جاتا ہے خانم میرج ہال تھانہ صدر سے تھوڑا سا پہلے ہے۔

بابا عظیم شاہ
شہر کے مشرق میں محبوب محل سینما کے جنوبی جانب بابا عظم شاہ کا دربار ہے مزار پختہ ہے اسکے قریب دوسری قبریں ہیں ایک سی مسجد بھی ہے ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں